images (8)

جب سات سال پہلے دفن کیا ہوا بھٹو واپس ضیاءالحق کے سامنے کرہا ہوا، جب نواز شریف نے بینظر کی ننگی تصویر پھینکنا شروغ کی، ایک ملّت کی غمگین کہانی حصّہ آٹھ

بینظیر کی واپسی

یہ اپریل انیس سو چھیاسی میں بہار کے دن ہیں-اور تین سال سے جلاوطن بھٹو کی تیتیس سالہ بیٹی نے سیاست میں واپسی کا اِعلان کر دیا ہے- انھوں نے پاکستان آنے کے لیے دس اپریل 1986 کی تاریخ بھی دے دی ہے-اس اعلان کے بعد سے طاقت کے ایوانوں میں ایک زبردست بحث چل نکلی ہے-کیا بینظیر کو واپس آنے دیا جائے یا ان کو روکنے کی کوشش کی جائے؟
اس بحث میں وزیراعظم جونیجو نے ضیاالحق کوقائل کر لیا کہ بےنظیر کے استقبال کو نہ روکا جائے- کیونکہ انھیں روکنے سے عالمی سطح پر یہ تاثر جائے گا کہ پاکستان میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہے- بینظیر کے استقبال کو نہ روکنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ بھٹو کی پھانسی کے سات سال بعد پیپلزپارٹی کی حقیقی مقبولیت کا ادراک کرنا چاہتے تھے۔پھر دس اپریل انیس سو چھیاسی کا دن آیا-بنظیر بھٹو بھٹو لاہور ائرپورٹ پر اتریں تو ہوائی اڈے کے گرداگرد لاکھوں افراد جمع تھے-لاہور شہر نے اتنا بڑا سیاسی جلوس اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا-لوگوں کے ہاتھوں میں پاکستان اور پیپلزپارٹی کے جھنڈے تھے اور ہر طرف ایک ہی ترانہ گونج رہا ہے-’’ائیر پورٹ پر اس وقت یہ حالت تھی جب ہم بے نظیر کی آمد سے کئی گھنٹے قبل پہنچے تھے‘‘
’’اس وقت لوگ بستر لیکر ائیر پورٹ کے ارد گردلیٹے ہوئے تھے، یعنی لوگ رات کو ہی آگئے تھے‘‘

عوام نے بینظیر کا استقبال کیسے کیا

بینظیر بھٹو کا جلوس لاہور ائرپورٹ سے مال روڈ، مال روڈ سے داتا دربار اور داتا دربار سے ہوتا ہوا مینار پاکستان پہنچا تو دوپہر ڈھل رہی تھی-وہ بھٹو جسے ضیا الحق سات سال پہلے دفن کر چکے تھے مینارِ پاکستان پر پورے قد سے کھڑا تھا اور آج وہ تنہا نہیں تھا-اس کے سامنے انسانوں کا سمندر تھا-اس سمندر میں پیپلزپارٹی کے مخالفین کو اپنا مستقبل ڈوبتا نظر آ رہا تھا
بینظیر بھٹوبھٹو کا ایسا شاندار استقبال سرکاری اندازوں کے بالکل خِلاف تھا- بینظیرکو بھی تاریخی استقبال سے بہت خوش تھیں لیکن اصل میں ان کے لیے مشکلات کی ابتدا بھی یہی تھی- کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے اُن کے بڑھتے قدم روکنے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا-بینظیر بھٹو بھٹو کو روکنے کیلئے جو اقدامات کیے گئے ان میں سب سے پہلے تو کردار کُشی کی مہم شروع کی گئی
ان کے سکینڈلز بنائے گئے-لاہور میں اپنے استقبال کے بعد بینظیر بھٹوپارٹی رہنما فیصل صالح حیات کے گھر میں ٹھہری تھیں
اس لئے فیصل صالح حیات کے ساتھ بھی ان کا سکینڈل بنا دیا گیا-ان حالات میں بینظیر بھٹوکی والدہ نے وہی کیا جو ہمارے معاشرے میں مائیں کرتی ہیں-انھوں نے بینظیر بھٹو کی شادی کا فیصلہ کر لیا-اس دور میں کئی لوگ بھٹو خاندان کا داماد بننے کے خواب دیکھ رہے تھے-بینظیر بھٹوکو فیصل صالح حیات سے شادی کا بھی مشورہ دیا گیا لیکن یہ بیل بھی مُنڈھے نہ چڑھی
عابدہ حسین لکھتی ہیں کہ فیصل صالح حیات کم پڑھے لکھے اور بور قسم کے آدمی تھے اس لئے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھا

بینظیر نے زرداری سے کیسے شادی کی


اس دوران نواب شاہ کے زمیندار گھرانے سے ایک رشتہ آیا-آصف زرداری کی والدہ ٹمی بخاری اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر نصرت بھٹو کے پاس آئیں-آصف زرداری کا سیاسی پس منظر نہیں تھا بلکہ نواب شاہ میں کچھ سال پہلے ض کونسل کا الیکشن تک ہار گئے تھے- البتہ ان کا پراپرٹی بزنس دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا تھا-نصرت بھٹو کو یہ رشتہ پسند آیا اور اٹھارہ دسمبر انیس سو ستاسی کو لیاری کے ککری گراؤنڈ میں دونوں کی شادی ہو گئی-لیکن شادی سے بھی بینظیر بھٹوکی مشکلات کم نہیں ہوئیں
ان کے مخالفین ان کی چھوٹی سے چھوٹی کمزوری سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے-اس لئے بینظیر بھٹوہر قدم پھونک پھونک کررکھ رہی تھیں- یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے امید سے ہونے کی بات بھی میڈیا سے چھپا لی لیکن جنرل ضیا کویہ خبر ہر صورت میں چاہیے تھی-کیونکہ ان کے لیے اس کی ایک اہم سیاسی وجہ تھی-انیس سو اٹھاسی میں جب جنرل ضیا نے جونیجو حکومت کو برطرف کیا توانہوں نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا-کیونکہ انہیں انٹیلی جنس رپورٹ مل چکی تھی کہ بینظیر بھٹوامید سے ہیں-لہٰذا وہ اگلے انتخابات کی تاریخ ایسی رکھنا چاہتے تھے جس میں بینظیر بھٹو زچگی کے قریب ہوں اور انتخابی مہم نہ چلا سکیں-انٹیلی جنس کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی کہ قریب قریب درست تاریخ کا پتہ لگائیں-بینظیر بھٹوبھی اس شرارت کو سمجھ چکی تھیں اس لیے ڈھیلے ڈھالے لباس پہنتی تھیں تاکہ انہیں دیکھنے والے کوئی اندازہ نہ لگا سکیں-

بینظیر بھٹونے مشہور کر دیا کہ وہ نومبر میں ماں بننے والی ہیں-یہی خبر جولائی میں جنرل ضیا تک بھی پہنچی، حالانکہ وہ 30مئی کو 90دن یعنی 30 اگست تک الیکشن کا اعلان کر چکے تھے-اب انہیں اپنے منصوبے کے تحت تاریخ بدلنا پڑی-انہوں نے 20 جولائی کو نیا اعلان کیا-اور بے نظیر کی زچگی کے مہینے یعنی نومبر میں انتخابات کا وعدہ کیا-تاریخ کی یہ عجیب و غریب جاسوسی جاری تھی کہ جنرل ضیا الحق کا طیارہ ہوا میں پھٹ گیا اور وہ جاں بحق ہو گئے-ضیاالحق کے آخری تین دن کی کہانی ہم آپ کو پچھلی قسط میں سنا چکے ہیں-پاکستان میں گیارہ سال سے سیاہ و سفید کے مالک جنرل ضیا کی موت کے ساتھ ہی پاکستان میں طاقت کا خلا پیدا ہوگیا۔اس خلا کو تین افراد نے پر کیا-جنہیں عرف عام میں سٹریٹیجک ٹرائی اینگل کہا جاتا ہے-طاقت کی اس تکون میں صدر غلام اسحق خان، آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی چیف جنرل حمید گل شامل تھے-صدرپاکستان غلام اسحق خان نے بھی نومبر میں انتخابات کی تاریخ کو برقرار رکھا-کیونکہ انہیں بھی بے نظیر کے بارے میں نومبر ہی کی اطلاع ملی تھی، لیکن یہ اطلاع غلط تھی-بے نظیر کی حکمت عملی کام کر گئی بلاول انتخابات سے دو ماہ پہلے اکیس ستمبر انیس سو اٹھاسی کو پیدا ہوئے اور بینظیر بھٹو کو انتخابی مہم چلانے کا پورا موقع مل گی

نواز شریف بمقابلہ بینظیر

سقوط ڈھاکہ کے بعد 1988کا الیکشن پہلا بڑا سیاسی معرکہ تھا-جس میں جماعتی بنیادوں پر الیکش ہو رہے تھے-

کیونکہ 1985کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر آزاد امیدواروں نے لڑے تھے-اور پیپلز پارٹی نے ان انتخابات کا بائیکاٹ ک تھا-نومبر میں ووٹنگ کا اعلان ہو چکا تھا-اور مقابلہ بہت سادہ تھا-یا آپ بھٹو کے ساتھ ہیں یا بھٹو کے خلاف بے نظیر کی عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے یہ صاف نظر آ رہا تھاکہ شاید وہ الیکشن میں کلین سویپ کریں گی-لیکن ان کے مخالفین انہیں کسی بھی صورت کھلی چھوٹ دینے پر تیار نہیں تھے۔سٹریٹیجک ٹرائی اینگل بھی اپنے جوہر دکھا رہی تھی-ٹرائی اینگل کا تیسرا سرا یعنی جنرل حمید گل سب سے زیادہ متحرک تھے-انھوں نےبے ن-یر کے خلاف نو سیاسی جماعتوں کا اسلامی جمہوری اتحاد یعنی آئی جے آئی راتوں رات کھڑا کر دیا-اس حقیقت کا اعتراف جنرل حمید گل اپنے کئی انٹرویوز میں کھل کر کر چکے ہیں-کاشف عباسی: لیکن آپ نے جنرل صاحب ان کو پہلی ملاقات میں کہا تھا کہ میں نے آپ کے خلاف آئی جے آئی بنائی تھی
حمید گل: میں نے آپ کے خلاف نہیں کہا تھا، میں نے آئی جے آئی بنائی تھی ورنہ ہم الیکشن تک پہنچ نہیں سکتے تھے
یہ میں نے بتایا، انہوں نے کہا کہ جنرل صاحب آئی انڈر سٹینڈ-نوازشریف کی جماعت جو اس وقت مسلم لیگ کہلاتی تھی اس اتحاد کا سب سے بڑا حصہ تھی-اس کے علاوہ نیشنل پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی بھی آئی جے آئی کا حصہ تھی-پیپلزپارٹی کے بانی رکن اور بینظیر کے انکل غلام مصطفیٰ جتوئی کو آئی جے آئی کا سربراہ مقرر کر کے بینظیر کے مقابلے پر کھڑا کر دیا گیا-اس اتحاد کے سربراہ تو غلام مصطفیٰ جتوئی تھے لیکن آئی جے آئی کا عوامی چہرہ نوازشریف تھے–ن کی تصویر کے ساتھ اخبارت کے فرنٹ پیجز پر بڑے بڑے اشتہارات چھپتے-. جن میں بینظیر کو دشمن اور یہودی لابی کا ایجنٹ لکھا جاتا-عوام سے مخاطب ہو کر کہا جاتا کہ آپ کا مقابلہ آپ کے دشمن سے ہے-ا. خبارات کی وہ خبریں جن میں بینظیر اور نصرت بھٹو پاکستانی ایٹمی پروگرام کی حمایت نہیں کر رہیں بطور اشتہار چھاپی جاتیں-یہ تک خبریں چھپیں کہ پیپلزپارٹی امریکہ میں لابنگ کر رہی ہے کہ پاکستان کو ایف سکسٹین طیارے نہ دئیے جائیں-ایسی خبروں کے تراشے روز اخبارات میں بطور اشتہار چھاپے جاتے-اور بتایا جاتا کہ پیپلزپارٹی کو ووٹ دینے کا مطلب پاکستان کے دفاع پر سمجھوتا کرنا ہے-سڑکوں چوراہوں پر آئی جے آئی کے نو ستاروں والے جھنڈے کے ساتھ یہ نعرہ بھی درج ہوتا-نو ستارے بھائی بھائی ۔۔۔ بینظیر بھٹو کی شامت آئی -آئی جے آئی کا انتخابی نشان سائیکل تھا.-

جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد مختلف شہروں میں سائیکل پر نو ستاروں کا جھنڈا لگا کر انتخابی مہم چلایا کرتے تھے-مخالفین بینظیر بھٹو کو عوام کی نظروں سے گرانے کیلئے اس حد تک چلے گئے کہ بینظیرکی نیم برہنہ تصاویرہیلی کاپٹروں کے ذریعے شہروں اور قصبوں میں گرائی گئیں-انہیں ماڈرن، مغرب زدہ اور امریکہ اور بھارت کی ایجنٹ تک قرار دیا جا رہا تھا-بینظیر بھٹو بھی اپنے جلسوں میں اسلامی جمہوری اتحاد کو اڑے ہاتھوں لیتیں-انھوں نے الزام لگایا کہ ہیروئن اور منشیات کی کمائی سے ان کے خلاف انتخابی مہم چلائی جا رہی ہے-انھوں نے ایسے اشتہار چھپوائے جن میں نوازشریف یا قاضی حسین احمد کو نہیں بلکہ ضیاالحق کو نشانہ بنایا جاتا-ضیا الحق کو پاکستان کے ایٹمی راز بھارت کو دینے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا-پیپلزپارٹی آمریت اور اس کے ساتھیوں کے خلاف اپنے انتخابی نشان تیر کو کئی معنوں میں استعمال کر رہی تھی-جواب میں آئی جے آئی بھی ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہونے والے ظلم اور زیادتیوں کی تصاویر اخبارات میں چھپواتی-ان اشتہاروں میں بھٹو کے پاکستان توڑنے کی طرف اشارہ ہوتا-اور یہ دکھایا جاتا کہ بھٹو سیاستدان کے پردے میں ایک سخت گیر ڈکٹیٹر تھے-وہ اخبارات جرائد دکھائے جاتے جو بھٹو نے زبردستی بند کروائے تھے-اور وہ لوگ دکھائے جاتے جن پر بھٹو نے تشدد کروایا تھا-گو کہ دنیا میں ضیاالحق موجود تھے نہ ذوالفقار علی بھٹو، لیکن انتخابی مہم میں یہ دونوں پوری آب و تاب سے زندہ تھے-یہ ایک انتخابی جنگ تھی اور شاید دونوں اس پرانے فارمولے پر چل رہے تھے کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے-سولہ نومبر کوقومی اسمبلی کی دو سو سینتیس میں سے دو سو سات نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی-کامیابی کے لیے کسی بھی جماعت کو ایک سو چار نشستیں درکار تھیں-ایک دن پہلے گیلپ سروے چھپ چکا تھا-جس میں انتہائی جدید اور سائنسی سروے کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ انتخابات میں پیپلزپارٹی اور آئی جے آئی میں مقابلہ برابر کا ہے-لیکن جب نتیجہ آیا تو پیپلزپارٹی، آئی جے آئی سے کہیں آگے تھی-

الیکشن کی نتائج

پیپلز پارٹی نے بانوے جبکہ اسلامی جمہوری اتحاد نے چوون نشستیں حاصل کی تھیں-بعد میں آزاد امیدواروں کی شمولیت سے پیپلزپارٹی کو ایک سو پندرہ امیدواروں کی حمایت مل گئی-س الیکشن کی دلچسپ بات یہ تھی کہ آئی جے آئی کے سربراہ غلام مصطفیٰ جتوئی ہار گئے-پیرپگارا جنھیں حکومت کی بھرپور مدد حاصل تھی وہ بھی ہار گئے-آج آپ سیاست میں خلائی مخلوق کی آوازیں سنتے ہیں-’’ہمارا مقابلہ تو ایک خلائی مخلوق کے ساتھ ہے‘‘-

بالکل اسی طرح اس وقت بھی ہارنے والے اسی قسم کی باتیں کرتے تھے-پیر پگارا نے کہا کہ انھیں ہرانے کیلئے خفیہ ہاتھ استعمال ہوا ہے-سابق وزیراعظم جونیجو بھی اپنی شکست پر انگلی منہ میں دبائے کچھ ایسی ہی بات کہہ رہے تھے-پرانے سیاسی جگادری ہار گئے لیکن بھٹو اور ضیا کے جواں سال سیاسی وارث جیت گئے-اب وہی دونوں میدان میں آمنے سامنے کھڑے تھے-اور پاکستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا تھا-لیکن ابھی انتخابی جنگ ختم نہیں ہوئی تھی-ان دنوں قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات ایک ہی دن نہیں ہوتے تھے-بلکہ پہلے قومی اسمبلی اور اس کے تین دن بعد صوبائی اسمبلیوں کے لیے ووٹنگ ہوتی تھی-اس لیے قومی اسمبلی میں شکست کے بعد آئی جے آئی کو صوبائی انتخابت میں بھی ہارنے کا دھڑکا لگ گیا۔اس دوران روزنامہ مشرق اور نوائے وقت میں بینظیر بھٹو کا یہ بیان سامنے آیا کہ وہ کسی پنجابی کو اپنا لیڈر کیسے مان لیں؟
آئی جے آئی نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور رات بھر میں پنجاب کی دیواروں پر یہ نعرہ لکھ دیا گیا۔۔۔
’’جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ‘‘-مساجد میں لائوڈ سپیکر پر ینظیر بھٹوکے خلاف اعلانات بھی کروائے گئے-پنجاب کے عوام کو پیپلز پارٹی کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی گئی اور اس مہم کا پیپلزپارٹی کو نقصان بھی ہوا-جب نتیجہ آیا تو پنجاب سے 88نشستیں پیپلز پارٹی نے اور اکیانوے آئی جے آئی نے حاصل کیں-نوازشریف آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر وزیراعلیٰ پنجاب بن گئے-خیبر پختونخوا یعنی صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بھی آئی جے آئی جیت گئی-سندھیوں کے لیے ایسے اشتہارات چھاپے گئے تھے جن میں لکھا جاتا کہ سندھ کو ایک جماعتی آمریت سے بچانے کیلئے آئی جے آئی کے نشان سائیکل پر مہر لگائیں-لیکن یہ مہم کسی کام نہ آئی-اورپیپلزپارٹی جیت گئی اور بوجھئیے کہ سندھ کے وزیراعلیٰ کون بنے ?
قائم علی شاہ دو دسمبر انیس سو اٹھاسی کو بینظیر بھٹونے وزارت عظمی کا حلف اٹھایا تو وہ پاکستان اور عالم اسلامکی پہلی خاتون وزیراعظم بن گئیں-؟

images (9)

ذولفقار علی بھٹو نے کیسے ٩٣ ہزار پاکستانی فوج کی قیدی انڈیا سے رہا کی, بھٹوحکومت کی عروج و زوال , ایک ملت کی غمگین کہانی حصہ چھ

سانحہ مشرقی پاکستان کے چند ماہ بعد تک ملک میں مارشل لاء نافذ رہا. بھٹو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور دستور ساز اسمبلی کے سربراہ تھے. پاکستان کے نوے ہزار فوجی اورمغربی پاکستان کا تیرہ ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ بھارت کے قبضے میں تھا. انھی معاملات کے حل کیلئے انیس سو بہتر میں بھٹو نے بھارت سے شملہ معاہدہ کیا. انہوں نے مذاکرات کے ذریعے بھارت سے تیرہ ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ واپس لے لیا. اب مسئلہ تھا نوے ہزار جنگی قیدیوں کی واپسی کا. بھٹو نے چین کے ذریعے اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش کا راستہ روکا. انہوں نے بھارت سے مذاکرات کیے کہ اگرانڈیا پاکستانی قیدی رہا کر دے تو چین اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش کا راستہ نہیں روکے گا. یہ دباؤ کام کر گیا اور پاکستان کے نوے ہزار قیدی رہا ہو کر وطن واپس آ گئے
اکہتر کی جنگ میں امریکہ نے چونکہ پاکستان کی کوئی مدد نہیں کی تھی اس لیے پاکستان نےامریکہ سے کیے گئے

سیٹو اور سینٹو کے معاہدے توڑ دئیے. لیکن پاکستان کو طاقتور عالمی اتحادی تو چاہیے تھے. اس کے لیے بھٹو نے اسلامی ممالک کا اتحاد بنانا شروع کیا. انیس سو چوہتر میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی. اسی برس پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا اور دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک نیا آغاز ہو گیا. بھٹو کی سب سے بڑی کامیابی پاکستان کا متفقہ آئین تیار کرنا تھا. اس آئین میں وزیراعظم کے اختیارات بڑھا دیئے گئے اور بھٹو نئے پاکستان کے پہلے وزیراعظم بنے. بھٹو دور کا ایک اوراہم واقعہ یہ تھا کہ انہوں نے ایوب دور اور اس سے پہلے لگنے والی صنعتوں اور اداروں کو سرکاری تحویل میں لے لیا. جس کا عملی نتیجہ اچھا نہیں رہا اور صنعتیں تباہ ہونے لگیں. صنعتیں بہتر کرنے کے لیے بھٹو نے روس سے تعلقات بہتر بنائے اور مدد طلب کی. پاکستان اسٹیل ملز بھی بھٹو دور میں بنائی گئی جبکہ ایوب دور میں شروع ہونے والا تربیلا ڈیم بھی اس دور میں مکمل ہوا. آئین کی تیاری کے بعد بھٹو کا دوسرا سب سے بڑا کارنامہ ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنا تھا. ان کا نعرہ ۔۔۔گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم ضروربنائیں گے۔۔۔ عوام میں بہت مقبول ہوا. تاہم اسلامی ممالک کا بلاک بنانے کی کوششوں اور ایٹمی پروگرام کی وجہ سے امریکہ بھٹو کےخلاف سرگرم ہو گیا. امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے بھٹو کو نشان عبرت بنانے کی دھمکی دے ڈالی اپنے دور اقتدار کے آخری سال بھٹو سے ایک تاریخی غلطی ہوئی. عام انتخابات انیس سو اٹھہتر میں ہونا تھے لیکن بھٹو کو اس کے مشیروں نے بتایا کہ اگر وہ ایک سال پہلے انتخابات کروا دیں تو ان کی جیت یقینی ہے. اس طرح وہ مزید پانچ سال حکومت کر سکیں گے. بھٹو کے مقابلے میں اپوزیشن کا مشترکہ اتحاد پی این اے میدان میں آیا. بھٹو نے واضح طور پر میدان مار لیا اور ایک سو پچپن نشستیں جیت لیں. اپوزیشن کے ہاتھ صرف چھتیس سیٹیں آئیں. پیپلز پارٹی جیت تو گئی لیکن انتخابات پر دھاندلی کا الزام لگ گیا. پی این اے دھاندلی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئی. یہ سیاسی تحریک دیکھتے ہی دیکھتے مذہبی رنگ میں رنگ گئی. اور وہ تحریک جو دھاندلی کے خلاف شروع ہوئی تھی تحریک نظام مصطفی میں تبدیل ہو گئی. اس تحریک کے نتیجے میں نظام مصطفیٰ تو نہ آیا لیکن ضیا الحق آ گیا. ’’مسٹر بھٹو کی حکومت ختم ہوچکی ہے، سارے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا ہے‘‘. ’’قوی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دی گئی ہیں، صوبائی گورنر اور وزیر ہٹا دیے گئے ہیں‘‘
بھٹو ضیاالحق پر بہت اعتبار کرتے تھے. بالکل اسی طرح جیسے ایوب بھٹو پر اور سکندر مرزا ایوب خان پر اعتبار کرتے تھے. تاریخ کا ستم دیکھئے کہ ضیا نے بھٹو کو، بھٹو نے ایوب کو اور ایوب نے سکندر مرزا کو دھوکا دیا. سچ ہے طاقت کے کھیل میں اخلاقیات نام کا کوئی ہتھیار نہیں ہوتا. ضیاء نےمارشل لا نافذ کرتے ہوئے بھٹو کو گرفتار کر لیا. بھٹو کو رضا قصوری کے قتل کے ایک بہت کمزور مقدمے میں سزائے موت سنا دی گئی. رضا قصوری، مشرف کے قریبی ساتھی احمد رضا قصوری کے والد تھے. چار اپریل انیس سو اناسی کو بھٹو کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا. ظلم کی انتہا یہ تھی کہ پھانسی سے قبل آخری ملاقات میں بیٹی کو باپ کے گلے بھی نہیں لگنے دیا گیا. اور پھانسی کے بعد کسی رشتے دار کو آخری دیدار تک نہیں کرنے دیا گیا
لیکن آج حال یہ ہے کہ بھٹو کی عدالتی موت کو عدالتی قتل سمجھا جاتا ہے