5a35828c767b8

مشرقی پاکستان کو کس نے توڑا, ایک ملت کی غمگین کہانی حصہ پانچ

جنرل یحیٰ نے مارچ انیس سو انہتر میں صدر ایوب خان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے. اب جنرل یحییٰ ایک ہی وقت میں پاکستان کے صدر، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے. وہ چونکہ ایوب کے زوال کے اسباب دیکھ چکے تھے. اس لیے انھوں نے فوراً سیاستدانوں سے کوئی لڑائی مول لینے کے بجائے ایوب دور میں سیاسی جماعتوں پر لگی پابندیوں کو ختم کیا. جنرل یحیٰ خان نے ایوب کا بنایا متنازعہ آئین بھی منسوخ کردیا. انھوں نے دسمبر انیس سو ستر میں صدارتی انتخابات کروائے. یہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات تھے جس میں ایک آدمی ایک ووٹ کا اصول استعمال ہوا. انھیں پاکستان کی تاریخ کے سب سے شفاف انتخابات کہا جاتا ہے. لیکن ان شفاف انتخابات کا نتیجہ بہت خوفناک برآمد ہوا. انتخابات میں میں بنگال کے شیخ مجیب الرحمان نے مشرقی پاکستان میں کلین سویپ کیا اور ایک سو ساٹھ نشستیں جیت لیں. لیکن ان کی جماعت مغربی پاکستان میں ایک بھی سیٹ حاصل نہ کر سکی. ادھر ذوالفقار علی بھٹو نے مغربی پاکستان میں اکیاسی نشتیں جیتیں. لیکن مشرقی پاکستان میں وہ ایک بھی سیٹ نہ جیت سکے. پاکستان واضح طور پر دو حصوں میں بٹ چکا تھا. پورا مشرقی پاکستان شیخ مجیب کے ساتھ کھڑا تھا اور شیخ مجیب آئینی لحاظ سے پاکستان کے نئے حکمران تھے. جنرل یحییٰ کی ذمہ داری تھی کہ انھیں اقتدار منتقل کرتے. اس مقصد کیلئے جنرل یحییٰ نے1فروری1971 میں ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا. یہ ایک تاریخی موقع تھا کہ پاکسان کو مشرقی پاکستان سے منتخب قیادت مل رہی تھی. لیکن اس تاریخ موقع پر بھٹو نے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا. نہ صرف انہوں نے شرکت سے انکار کیا بلکہ اپنے نمائندوں کو دھمکی دی کہ جو قومی اسمبلی کے اجلاس میں جائے گا وہ اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے. بھٹو کو شیخ مجیب کے چھ نکات پر اعتراض تھا. بھٹو سمجھتے تھے کہ شیخ مجیب کے چھ نکات پاکستان سے علیحدگی کے نکات ہیں. لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ شیخ مجیب پر اعتراضات کے باوجودبھٹو کو اجلاس میں ضرور شرکت کرنی چاہیے تھی. بھٹو نے جنرل یحییٰ پر اجلاس ملتوی کرنے کیلئے دباؤ ڈالا. یحییٰ نے یہ اجلاس ملتوی کروا دیا. اجلاس کا ملتوی ہونا تھا کہ مشرقی پاکستان میں آگ لگ گئی. بنگالی سمجھ گئے کہ مغربی پاکستان کی اشرافیہ ہمیں اقتدار منتقل نہیں کرنا چاہتی۔. مشرقی پاکستان میں سول نافرمانی کی تحریک چل پڑی. بھارت جو پہلے سے موقع کی تاڑ میں بیٹھا تھا اس نے باغی گروہ مکتی باہنی کے ذریعے مسلح بغاوت شروع کرا دی مکتی باہنی کے مسلح گروہوں نے پاک فوج اور مغربی پاکستان کے حامیوں پر حملے شروع کر دئیے. یہ پاکستان بچانے کا آخری موقع تھا. اگر اس وقت بھی ایک اجلاس بلا کر اقتدار انتخابات جیتنے والے کے سپرد کر دیا جاتا. تو شاید پاکستان کی تاریخ کچھ اور ہوتی

گو کہ اب یہ اتنا سادہ بھی نہیں رہا تھا. لیکن جنرل یحییٰ نےاقتدار منتقل کرنے کی بجائے یہ آخری موقع بھی گنوا دیا

اور بغاوت کچلنے کیلئے فوجی ایکشن شروع کردیا. یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ فوجی ایکشن کو بھٹو سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے سپورٹ کیا. پاک فوج نے مکتی باہنی کی بغاوت کو نو ماہ میں کچل دیا. لیکن اس فوجی ایکشن کے نتیجے میں نفرت کی ندی کا پانی سروں سے بہت اونچا ہو چکا تھا. دوسری طرف موقع کی تاڑ میں بیٹھے بھارت نے اپنی سازش کو ناکام ہوتے دیکھا تو انٹرنیشنل بارڈر کراس کرتے ہوئے مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا. پاک فوج چاروں طرف سے گھیرے میں آ گئی. جغرافیہ ہمارے خلاف تھا، پاک فوج مرکز سے ایک ہزار میل دور اور چاروں طرف سے دشمن پوری سپلائی لائن کے ساتھ گھیرا ڈال چکا تھا. جبکہ ادھر صورت حال یہ تھی کہ پاک فوج کی سپلائی لائن کٹ چکی تھی. اور مشرقی پاکستان کی سرزمین بیگانی ہو چکی تھی۔ شکست دیوار پر لکھی تھی. اس کے باوجود پاک فوج کے جوان بہادری سے لڑے.وطن کی خاطر ہزاروں جوان کٹ مرے لیکن یہ ایک ہاری ہوئی جنگ تھی. جسے طول تو دیا جا سکتا تھا جیتا نہیں جا سکتا تھا. اور ہوا بھی یہی. پاکستان کو اپنی تاریخ کی سب سے شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا. اور نوے ہزار پاکستانی فوجی بھارت کے قیدی بن گئے. ملک ٹوٹ چکا تھا اور پاکستان مشرقی اور مغربی کے بجائے صرف پاکستان رہ گیا تھا. گو کہ ملک توڑنے کا ذمہ دار کوئی ایک فرد نہیں ہو سکتااس کے پیچھے سیکڑوں عوامل ہوتے ہیں. لیکن اگر یہ دیکھنا ہو کہ آخری وقت میں وہ کون سا شخص تھا جو پاکستان کو بچا سکتا تھا لیکن اس نے نہیں بچایا تو اس کا نام ہے جنرل یحییٰ. جنرل یحییٰ اس لیے کہ ان کی بطور صدر اور کمانڈر ان چیف یہ ذمہ داری تھی کہ اقتدار سب سے زیادہ ووٹ لینے والےکو ایماندری سے منتقل کر دیتے. لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا. لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان توڑنے کے تنہا ذمہ دار جنرل یحییٰ ہیں۔ کیونکہ. وقت کرتا ہے پرورش برسوں ۔۔۔ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔

سانحہ مشرقی پاکستان کے ساتھ ہی جنرل یحییٰ کے اقتدار کا سورج بھی غروب ہو گیا. جنرل یحییٰ نے ذوالفقار علی بھٹو کو ایک کاغذ کی تحریر کے ذریعے اقتدار منتقل کر دیا. بھٹو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور دستور ساز اسمبلی کے سربراہ بن گئے

انھوں نے اقتدار سنبھالا اور جنرل یحیٰ کو نظر بند کر دیا. باقی زندگی میں جنرل یحیٰ زیادہ تر نظر بند ہی رہے. بھٹو کی پھانسی کے ایک سال بعد سقوط ڈھاکہ کا یہ اہم ترین کردار انتقال کر گیا. ادھر پاکستان سے الگ ہونے والے بنگلہ دیش میں ایک کے بعد ایک فوجی بغاوت جنم لیتی رہی. یہاں تک کہ علیحدگی کے صرف چار سال بعد ڈھاکہ میں شیخ مجیب کو نوجوان فوجی افسروں نے گھر میں گھس کر قتل کر دیا. یوں صرف دس سال کے اندر اندر سقوط ڈھاکہ کے تینوں اہم کردار بھٹو، شیخ مجیب اور جنرل یحییٰ موت کی وادی میں جا سوئے. پاکستان میں اس سانحے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک کمیشن بنایا گیا

اس کمیشن کے سربراہ بنگال سے تعلق رکھنے والے چیف جسٹس جسٹس حمودالرحمن تھے. اس کمیشن نےسقوط ڈھاکہ پر ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی. اس رپورٹ میں ذمہ داروں کا تعین بھی کیا گیا. اور سقوط ڈھاکہ کے عوامل بھی لکھے گئے

یہ رپورٹ بھٹو کے دور میں مکمل ہو گئی تھی. لیکن چند مصلحتوں کے پیش نظر انہوں نے اسے شائع نہیں کیا. وہ دن اور آج کا دن یہ رپورٹ کبھی سامنے نہ آسکی. اس کے کچھ حصے بھارت میں تو شائع ہوئے لیکن پاکستان میں اسے کبھی پبلک نہیں کیا گیا