images (9)

ذولفقار علی بھٹو نے کیسے ٩٣ ہزار پاکستانی فوج کی قیدی انڈیا سے رہا کی, بھٹوحکومت کی عروج و زوال , ایک ملت کی غمگین کہانی حصہ چھ

سانحہ مشرقی پاکستان کے چند ماہ بعد تک ملک میں مارشل لاء نافذ رہا. بھٹو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور دستور ساز اسمبلی کے سربراہ تھے. پاکستان کے نوے ہزار فوجی اورمغربی پاکستان کا تیرہ ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ بھارت کے قبضے میں تھا. انھی معاملات کے حل کیلئے انیس سو بہتر میں بھٹو نے بھارت سے شملہ معاہدہ کیا. انہوں نے مذاکرات کے ذریعے بھارت سے تیرہ ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ واپس لے لیا. اب مسئلہ تھا نوے ہزار جنگی قیدیوں کی واپسی کا. بھٹو نے چین کے ذریعے اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش کا راستہ روکا. انہوں نے بھارت سے مذاکرات کیے کہ اگرانڈیا پاکستانی قیدی رہا کر دے تو چین اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش کا راستہ نہیں روکے گا. یہ دباؤ کام کر گیا اور پاکستان کے نوے ہزار قیدی رہا ہو کر وطن واپس آ گئے
اکہتر کی جنگ میں امریکہ نے چونکہ پاکستان کی کوئی مدد نہیں کی تھی اس لیے پاکستان نےامریکہ سے کیے گئے

سیٹو اور سینٹو کے معاہدے توڑ دئیے. لیکن پاکستان کو طاقتور عالمی اتحادی تو چاہیے تھے. اس کے لیے بھٹو نے اسلامی ممالک کا اتحاد بنانا شروع کیا. انیس سو چوہتر میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی. اسی برس پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا اور دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک نیا آغاز ہو گیا. بھٹو کی سب سے بڑی کامیابی پاکستان کا متفقہ آئین تیار کرنا تھا. اس آئین میں وزیراعظم کے اختیارات بڑھا دیئے گئے اور بھٹو نئے پاکستان کے پہلے وزیراعظم بنے. بھٹو دور کا ایک اوراہم واقعہ یہ تھا کہ انہوں نے ایوب دور اور اس سے پہلے لگنے والی صنعتوں اور اداروں کو سرکاری تحویل میں لے لیا. جس کا عملی نتیجہ اچھا نہیں رہا اور صنعتیں تباہ ہونے لگیں. صنعتیں بہتر کرنے کے لیے بھٹو نے روس سے تعلقات بہتر بنائے اور مدد طلب کی. پاکستان اسٹیل ملز بھی بھٹو دور میں بنائی گئی جبکہ ایوب دور میں شروع ہونے والا تربیلا ڈیم بھی اس دور میں مکمل ہوا. آئین کی تیاری کے بعد بھٹو کا دوسرا سب سے بڑا کارنامہ ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنا تھا. ان کا نعرہ ۔۔۔گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم ضروربنائیں گے۔۔۔ عوام میں بہت مقبول ہوا. تاہم اسلامی ممالک کا بلاک بنانے کی کوششوں اور ایٹمی پروگرام کی وجہ سے امریکہ بھٹو کےخلاف سرگرم ہو گیا. امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے بھٹو کو نشان عبرت بنانے کی دھمکی دے ڈالی اپنے دور اقتدار کے آخری سال بھٹو سے ایک تاریخی غلطی ہوئی. عام انتخابات انیس سو اٹھہتر میں ہونا تھے لیکن بھٹو کو اس کے مشیروں نے بتایا کہ اگر وہ ایک سال پہلے انتخابات کروا دیں تو ان کی جیت یقینی ہے. اس طرح وہ مزید پانچ سال حکومت کر سکیں گے. بھٹو کے مقابلے میں اپوزیشن کا مشترکہ اتحاد پی این اے میدان میں آیا. بھٹو نے واضح طور پر میدان مار لیا اور ایک سو پچپن نشستیں جیت لیں. اپوزیشن کے ہاتھ صرف چھتیس سیٹیں آئیں. پیپلز پارٹی جیت تو گئی لیکن انتخابات پر دھاندلی کا الزام لگ گیا. پی این اے دھاندلی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئی. یہ سیاسی تحریک دیکھتے ہی دیکھتے مذہبی رنگ میں رنگ گئی. اور وہ تحریک جو دھاندلی کے خلاف شروع ہوئی تھی تحریک نظام مصطفی میں تبدیل ہو گئی. اس تحریک کے نتیجے میں نظام مصطفیٰ تو نہ آیا لیکن ضیا الحق آ گیا. ’’مسٹر بھٹو کی حکومت ختم ہوچکی ہے، سارے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا ہے‘‘. ’’قوی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دی گئی ہیں، صوبائی گورنر اور وزیر ہٹا دیے گئے ہیں‘‘
بھٹو ضیاالحق پر بہت اعتبار کرتے تھے. بالکل اسی طرح جیسے ایوب بھٹو پر اور سکندر مرزا ایوب خان پر اعتبار کرتے تھے. تاریخ کا ستم دیکھئے کہ ضیا نے بھٹو کو، بھٹو نے ایوب کو اور ایوب نے سکندر مرزا کو دھوکا دیا. سچ ہے طاقت کے کھیل میں اخلاقیات نام کا کوئی ہتھیار نہیں ہوتا. ضیاء نےمارشل لا نافذ کرتے ہوئے بھٹو کو گرفتار کر لیا. بھٹو کو رضا قصوری کے قتل کے ایک بہت کمزور مقدمے میں سزائے موت سنا دی گئی. رضا قصوری، مشرف کے قریبی ساتھی احمد رضا قصوری کے والد تھے. چار اپریل انیس سو اناسی کو بھٹو کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا. ظلم کی انتہا یہ تھی کہ پھانسی سے قبل آخری ملاقات میں بیٹی کو باپ کے گلے بھی نہیں لگنے دیا گیا. اور پھانسی کے بعد کسی رشتے دار کو آخری دیدار تک نہیں کرنے دیا گیا
لیکن آج حال یہ ہے کہ بھٹو کی عدالتی موت کو عدالتی قتل سمجھا جاتا ہے

download (47)

سکندر مرزا: ملکی نظام کی قیام اور مارشل لاء کا آغاز ایک ملت کی غمگین کہانی, حصہ سوم

انیس سو پچپن میں جب گورنر جنرل غلام محمد رخصت ہوئے تو بیوروکریسی نے ملکی نظام پراپنی گرفت مضبوط کرلی تھی. فوجی مداخلت بھی پورے عروج پرتھی. میجرجنرل ریٹائرڈ اسکندرمرزا جو بیوروکریٹ بھی رہ چکے تھے گورنرجنرل بن گئے. یوں عملی طور پرحکومت فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قبضے میں چلی گئی. اسکندرمرزا طویل عرصے تک حکومت کرنے کے خواہش مند تھے. انہیں لگتا تھا کہ اگر وہ اپنے دوست آرمی چیف جنرل ایوب خان کو اقتدار میں شریک کر لیں تو ان کی خواہش پوری ہو سکتی ہے. سو انھوں نے ایسا ہی کیا تاریخ کے ریکارڈ کو درست رکھنے کے لیے آپ کو بتاتے چلیں کہ اسکندر مرزا، میر جعفر کے پڑپوتے تھے. وہی میر جعفر جس نے بنگال میں انگریزوں کو راستہ دینے کیلئے نواب سراج الدولہ سے غداری کی تھی. سکندر مرزا کا دور پاکستان کی جمہوریت کے لیے جگ ہنسائی کا دور تھا. اسکندر مرزا نے صرف تین سال میں پانچ وزرائے اعظم کی چھُٹی کروا کے وزارت عظمیٰ کی کرسی کو ایک مذاق بنا دیا. کہتے ہیں کہ اس پر بھارتی وزیراعظم نہرو نے کہا تھا کہ میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنی تیزی سے پاکستان میں وزیراعظم بدلتے ہیں. اسکندر مرزا کا پہلا شکار وزیراعظم محمد علی بوگرہ تھے. جنھیں ہٹا کرایک بیوروکریٹ چودھری محمد علی کو وزیراعظم بنایا گیا. لیکن یہ ساتھ بھی ایک سال سے زیادہ نہ چل سکا اور انیس سو چھپن میں انہیں بھی گھربھیج دیا گیا. چوہدری محمد علی کی جگہ حسین شہید سہروردی کو وزیراعظم بنایا گیا. لیکن جب حسین شہید سہروردی نے اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو اسکندر مرزا نے انہیں بھی اقتدار چھوڑنے پر مجبور کردیا. سہروردی کی جگہ ابراہیم اسماعیل چندریگر جنہیں آئی آئی چندریگر بھی کہا جاتا ہے، وزیراعظم بنے. لیکن صرف دو ماہ بعد انہیں بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا
ان کی جگہ ملک فیروز خان نون پاکستان کے ساتویں وزیراعظم بنے. اور یہ پہلے وزیراعظم تھے جن کا تعلق پنجاب سے تھا. اس سے پہلے جتنے بھی وزرائے اعظم یا گورنر جنرل آئے ان میں قائداعظم کو چھوڑ کر باقی سب مشرقی پاکستان سے تھے یا مہاجر تھے. وزیراعظم فیروز خاں نون نے گوادر کی بندرگاہ پاکستان میں شامل کیا. یہ بندرگاہ برطانوی دور میں عرب سلطنت اومان کو دی گئی تھی. ملک فیروزخان نون نے اومان کو ایک کروڑ ڈالر کی رقم ادا کی اور گوادر کو

پاکستان میں شامل کر لیا. کہتے ہیں کہ نواب اکبربگٹی نے مذاکرات میں اہم کردارادا کیا تھا
جن وزرائے اعظموں کو اسکندر مرزا اپنی تفریح طبع کے لیے آئے روز فارغ کر رہے تھے. انھی میں سے ایک چودھری محمد علی تھے جنہوں نے جاتے جاتے بھی پاکستان کا 1956 کا آئین ہیں مکمل کر دیا. پاکستان کے اسی پہلے آئین کے تحت اسکندر مرزا گورنر جنرل سے پاکستان کے پہلے صدر بنے. اور پاکستان اسی آئین کے تحت ملکہ برطانیہ کے تسلط سے پوری طرح نکل کر ایک آزاد اور خود مختارملک بن گیا. ادھر آئین بنا ادھر ملک میں انتخابات کا ماحول پیدا ہو گیا. یہ بات پاکستان کے لیے خوشی کا باعث تھی لیکن اسکندر مرزا اور جنرل ایوب کے لیے یہ بڑے دکھ کی بات تھی. مرزا اور ایوب دونوں جانتے تھے کہ اگر انہوں نے الیکشن سے پہلے کوئی قدم نہیں اٹھایا تو آج کے بعد وہ پاکستان میں
اقتدار کے مزے کبھی نہیں اٹھا سکیں گے۔ کیونکہ ایوب خان ریٹائر ہونے والے تھے اور سکندر مرزا نئی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے قابل نہیں تھے ایسے میں انہوں نے وہی کیا جو خوفزدہ آمر کیا کرتے ہیں. سات اکتوبر انیس سو اٹھاون کو اسکندر مرزا نے حکومت برطرف اور آئین منسوخ کرکے ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کا اعلان کر دیا. سکندر مرزا باوردی فوجی نہیں تھے. اس لیے تاریخ کا یہ ریکارڈ درست رہنا چاہیے کہ پاکستان میں پہلا ملک گیر مارشل لا فوج نے نہیں بلکہ بنگال سے تعلق رکھنے والے بیوروکریٹ صدر نے لگایا. انہوں نے اپنی سازشوں کے طاقتور ساتھی جنرل ایوب کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا. جنرل ایوب نے جب دیکھا کہ اسکندر مرزا کا اقتدار اور مارشل لا تو انھی کے سہارے قائم ہے. تو انھوں نے اسکندر مرزا کو اقتدار سے بے دخل کر کے جلا وطن کردیا. ایوب خان نے قوم سے خطاب کیا، ملک گیر مارشل لا کا باقاعدہ اعلان کیا اور یوں پاکستان میں جمہوریت کی جگہ میرے عزیز ہم وطنو کی شروعات ہو گئی. شجاع نواز نے اپنی کتاب کراس سورڈز میں لکھا ہے کہ جنرل ایوب کو پاکستان پر مسلط کرنے والے بھی اسکندر مرزا تھے. کیونکہ جب پاکستان میں انگریز جنرل کی جگہ مقامی جنرل کو آرمی چیف بنانے کی بات چل رہی تھی. تو اسکندر مرزا وزیراعظم لیاقت علی خان کے سیکرٹری دفاع تھے. انھوں نے ہی وزیراعظم کو قائل کیا کہ جونئیر موسٹ جنرل ایوب خان کو پرموشن دے کر آرمی چیف بنایا جائے. شاید یہی وجہ تھی کہ اسکندر مرزا سمجھتے تھے جنرل ایوب ان کے احسانات تلے دبے رہیں گے. لیکن وہ یہ بھول گئے کہ طاقت کی جنگ میں اخلاق نامی کوئی ہتھیار نہیں ہوتا. اسکندرمرزا کی بدقسمتی دیکھئے کہ کبھی وہ پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک تھے. ہر چند ماہ بعد اپنے موڈ کے مطابق وزیراعظم تبدیل کر دیتے تھے
اور پھر یوں ہوا کہ جلاوطنی کے بعد انھیں وطن کی مٹی بھی نصیب نہ ہوئی. اسکندر مرزا نے انیس سو انہتر میں لندن میں وفات پائی اور ایران کے دارلحکومت تہران میں دفن ہوئے. جب تک زندہ رہے انھیں ملکہ برطانیہ سے وظیفہ ملتا رہا کیونکہ وہ اسی کے وفادار تھے. اب پاکستان میں اسکندر مرزا کا نہیں جنرل ایوب کا دور شروع ہو چکا تھا۔

download (49)

قائداعظم کی وفات سے لیاقت علی خان کی وفات تک کا سفر, ایک ملت کی غمگین کہانی حصہ اول

انيس سو اڑتاليس میں ایک طرف پاکستان بے سروسامانی کے عالم میں حالت جنگ میں تھا دوسری طرف بانی پاکستان شدید بیمار ہو گئے لیکن بیماری بھی انھیں گورنر جنرل کی حیثیت میں پاکستان کی خدمت کرنے سے نہیں روک سکی. قائداعظم کو انتہائی خطرناک حالت میں بلوچستان کے شہر زیارت سے کراچی لایا گیا آپ ائرپورٹ پر اترے تو بیماری سے نڈھال تھے لیکن انھیں اس حالت میں لے جانے کیلئے ایک کھٹارا سی ایمبولینس بغیر نرس کے بھیج دی گئی. ایمبولینس قائداعظم کو ان کی رہائش گاہ تک پہنچانے سے پہلے ہی راستے میں خراب ہو گئی. جب دوسری ایمبولینس منگوائی گئی تو اس دوران ایک گھنٹے کا وقت لگ گیا جس میں محترمہ فاطمہ جناح بیمار بانی پاکستان کو ہاتھ کاپنکھ

جھلتی رہیں. اس سوال کا جواب آج کسی کے پاس بھی نہیں کہ خراب ایمبولینس بھیجنا ایک سازش تھی یا ایسا ایک بے سروسامانی سے لڑتی ریاست میں کمیونیکشن کے گیپ کی وجہ سے ہوا. ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ قائداعظم کی آمد کے بارے میں لیاقت علی خان آگاہ ہی نہیں تھے. یہ عذر بھی پیش کیا جاتا ہے کہ اس وقت پورے کراچی میں صرف دو ایمبولینسز تھیں

جن میں سے ایک کو قائداعظم کیلئے بھیج دیا گیا شاید یہ کمیونیکشن کی تاریخی غلطی ہو لیکن بہت سے لوگ آج بھی یہ مانتے ہیں کہ خراب ایمبولینس بھیجنا دراصل ایک سوچی سمجھی سازش تھی قائداعظم جب گھر پہنچے تو بیماری سے بری طرح نڈھال ہو چکے تھے۔ آخری وقت میں ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور ذاتی معالج کے سوا ان کے ساتھ کوئی دوسرا موجود نہیں تھا وہاں موجود لوگوں کے مطابق ان کے آخری الفاظ تھے

اللہ

پاکستان

انھوں نے یہ کہا اور جان جان آفرین کے سپرد کر دی قائداعظم کے جنازے میں چھے لاکھ لوگ شریک ہوئے. قائداعظم کی وصیت کے مطابق ہی ان کی نماز جنازہ علامہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی. اور خواجہ ناظم الدین کو پاکستان کا دوسرا گورنر جنرل نامزد کردیا گیا.

لیاقت علی خان کو کس نے مارا؟

ادھر قائداعظم جہان فانی سے رخصت ہوئے ادھر حکومتی ایوانوں میں روایتی سازشیں جنم لینے لگیں اس سارے

گرداب کو اگر کوئی شخص قائداعظم کے بعد سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا تھا وہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاق علی خان تھے. بانی پاکستان کے بعد لیاقت علی خان مختار کُل ہو گئے اور پاکستان کی قسمت کے اہم ترین فیصلے کرنے لگے.اس وقت ایک طرف پاکستان کا آئین تشکیل پا رہا تھا اور دوسری طرف پاکستان کو اپنی تاریخ کا ایک اور اہم ترین فیصلہ کرنا تھا یہ فیصلہ تھا روس اور امریکہ کی سرد جنگ میں کسی ایک کا اتحادی بننا یا غیر جانب دار رہنا. پاکستان نے یہ تاریخی فیصلہ امریکہ کے حق میں کیا حالانکہ پاکستان کے پاس بھارت کی طرح غیرجانبدار رہنے کا آپشن بھی موجود تھا لیاقت علی خان کو سوویت یونین کے رہنما جوزف اسٹالین اور امریکی صدر ہیری ٹرومین دونوں کی طرف سے دعوت تھی لیکن انھوں نے ماسکو کے بجائے واشنگٹن جانے کو ترجیح دی. واشنگٹن میں حسب توقع ان کا پرتپاک استقبال ہوا اس دورے سے سوویت یونین یعنی اس دور کے روس اورپاکستان کے تعلقات بگڑ گئے. امریکا سے دوستی کی وجہ سے پاکستان عالمی سیاست اور سرد جنگ کی بھول بھلیوں میں الجھ کررہ گیا

جس کے نتیجے میں اس کی سالمیت اور خودمختاری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا. سب سے بڑا نقصان تو یہ تھا پاکستان آزادنہ خارجہ پالیسی کے راستے سے ہٹ گیا اور عالمی طاقتوں کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہونے لگا

لیاقت علی خان کے دور اقتدار کا آخری سال کافی ہنگامہ خیز رہا۔ 1951 میں میجر جنرل اکبرخان نے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی. یہ کوشش ناکام رہی اوراس کے تمام کرداروں کوگرفتارکرلیا گیا. پاکستانی تاریخ میں حکومت کا تختہ الٹنے کی یہ پہلی غیر سیاسی کوشش تھی. 16 اکتوبر1951 کے دن لیاقت علی خان راولپنڈی میں مسلم لیگ کے جلسے سے خطاب کرنے سٹیج پر آئے. جلسے کے شرکاء میں کھڑے سید اکبر نے وزیراعظم پر گولی چلا دی. گولی سینے میں لگی اور پاکستان کا پہلا وزیراعظم ہزاروں لوگوں کے درمیان دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا کہا جاتا ہے کہ لیاقت علی خان کے آخری الفاظ تھے

۔۔۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔۔ اس قتل کی تفتیش کیلئے جو پہلا ثبوت میدان میں موجود تھا

یعنی گولی چلانے والا سید اکبر اسے موقعے پر ہی پولیس نے ہلاک کر دیا. اس قتل کی تفتیش انتہائی غیرسنجیدگی سے کی گئی

جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جب لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس کی فائل پیش کرنے کا حکم دیا

تو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے حیرت انگیزجواب دیا. اس نے کہا ’’مائی لارڈ لیاقت علی خان قتل کیس کی فائل گُم ہو گئی ہے۔‘‘

اس قتل کی پوری تفتیش تو کبھی نہ ہو سکی لیکن اخباروں میں ایسی خبریں چھپتی رہیں کہ لیاقت علی خان کے قتل کے پیچھے امریکہ اور افغانستان کا ہاتھ ہے. سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر پاکستان کے پہلے سیاسی قتل کی تفتیش درست انداز میں کر لی جاتی اور قانون کے مطابق سزائیں دی جاتیں تو پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی. لیاقت علی خان کا دنیا سے اٹھنا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم کی کرسی ایک مذاق بن کر رہ گئی. جس پر کٹھ پتلیاں لائی جاتیں اور گرائی جاتیں. اس پر ستم ظریفی یہ کہ یہ کٹھ پتلیاں چلانے والا ایک معذور اور مفلوج شخص تھا جو بدقسمتی سے پاکستان کا مختار کل بنا دیا گیا تھا