download (46)

پاکستان کا پہلا ملک گیر مارشل لا: ایوب خان کی آغازی حکومت ایک ملت کی غمگین کہانی حصہ چار

1958 میں پاکستان کا پہلا ملک گیر مارشل لا لگا. اور ایوب خان پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے. وہ پہلے ڈکٹیٹر تھے جو برملا کہتے تھے کہ عوام ابھی اتنے باشعورنہیں ہوئے کہ انھیں ووٹ کا حق دیا جائے. جمہوریت اور سیاستدانوں سے ان کی نفرت اتنی زیادہ تھی کہ انھوں نے ایبڈو اور پراڈا جیسے بدنام زمانہ قوانین بنائے. ان قوانین کے تحت سات ہزار سیاستدان سات، سات سال کے لیے نااہل قرار دیئے گئے. نااہل قرار دیئے جانے والے سیاستدانوں میں سابق وزرائے اعظم حسین شہید سہروردی اور فیروزخان نون جیسے بڑے نام بھی شامل تھے. ان لوگوں کو نااہل کرنے کے لیے کرپشن اور ملک دشمنی کے الزامات لگائے گئے. سیاستدانوں پر کرپشن الزامات اور نااہل کرنے کے بعد ایوب خان نے اپنی مرضی کا ایک آئین تشکیل دیا. اور انیس سو پینسٹھ میں اسی آئین کے تحت انتخابات کا اعلان کر دیا. خودپسندی اوراقتدار کی ہوس دیکھئے کہ جنرل ایوب جو پاکستان مسلم لیگ کے صدر بھی تھے وہ خود صدارتی امیدوار کے طور پر میدان میں آ گئے. ان کے مقابلے کے لیے اب میدان میں کوئی سیاستدان نہیں بچا تھا کیونکہ تمام بڑے سیاستدانوں کو مختلف الزامات کے تحت نااہل کیا جا چکا تھا. اپوزیشن بری طرح تقسیم تھی


ایوب خان کا خیال تھا کہ وہ بہت مقبول ہیں اور باآسانی جیت جائیں گے. ایسے میں تقسیم شدی اپوزیشن نے بھی شاندار پتہ کھیلا. انھوں نے متفقہ طور پر قائداعظم محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو صدر پاکستان کے امیدوار کے طور پر کھڑا کر دیا. ان حالات میں وہ پاکستان کی واحد امید تھیں. جنرل ایوب خان محترمہ فاطمہ جناح سے خوفزدہ تھے. مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان دونوں میں فاطمہ جناح کو پذیرائی ملنا یقینی بات تھی. لیکن ایوب خان نے صحت مند مقابلے کے بجائے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف کردار کشی کی گھٹیا مہم شروع کروا دی. بانی پاکستان کی بہن کو بھارتی ایجنٹ اور غدار کہا گیا. انیس سو پینسٹھ کے متنازع ترین انتخابات ہوئے اور کھلی دھاندلی کے نتیجے میں ایوب خان جیت گئے. اتنی بڑی ناانصافی نے ایوب خان کو عوام کی نظروں سے گرا دیا. ایوب خان کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع ہو گئے. اور سڑکوں چوراہوں پر ایوب کے خلاف ہر طرح کے نعرے لگنے لگے. اسی دوران دو ایسے واقعات ہوئے جن سے ملک کی معاشی حالت ڈانواں ڈول ہو گئی اورایوب خان کو بہت بڑا سیاسی دھچکا پہنچا. ایک واقعہ تو 1965 کی جنگ ستمبر کاتھا. جس میں پاکستان نے بھارتی حملے کا بھرپور اور کامیاب دفاع کیا. لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ امریکہ پاکستان سے ناراض ہو گیا. وجہ یہ تھی امریکہ سے پاکستان کا معاہدہ تھا کہ پاکستان امریکی ہتھیاروں کو بھارت کے خلاف استعمال نہیں کرے گا. لیکن جنگ میں پاکستان نے اپنی پوری طاقت بھارت کے خلاف استعمال کی اس سے امریکی امداد بند ہو گئی. دوسرا واقعہ معاہدہ تاشقند تھا. جس میں جنرل ایوب کےخلاف یہ تاثر پھیل گیا انھوں نے بھارت کے خلاف جیتی ہوئی جنگ ستمبر مذاکرات کی میز پر ہار دی ہے. ان دو واقعات اور محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف دھاندلی ایوبی اقتدار کیلئے زہرقاتل ثابت ہوئے. ذوالفقار علی بھٹو اس وقت ایوب کے وزیر خارجہ تھے اور سر عام جنرل ایوب کو ڈیڈی کہا کرتے تھے. لیکن جب بھٹو نے حالات بدلتے دیکھے تووہی کیا جوطاقت کے کھیل میں کیا جاتا ہے. انہوں نے ایوب کے خلاف بھڑکے ہوئےعوامی جذبات کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔. انھوں نے پاکستان کی پہلی عوامی جماعت پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی اور مغربی پاکستان کے سب سےمقبول لیڈربن گئے. 1969میں جب صدر ایوب خان کے خلاف عوامی مزاحمت بے قابو ہو گئی تو آرمی چیف جنرل یحیٰ نےایوب خان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا. ایوب خان نے پاکستان پر دس سال اور چھ ماہ حکومت کی. یہ دس سال پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین سال تھے. ان برسوں میں ابتدائی طور پر پاکستان کھل کر امریکی کیمپ میں شامل ہوا. جس کے چند مثبت نتائج بھی نکلے. امریکی مدد سے پاکستان نے پہلی بار منگلا اور تربیلا جیسے بڑے ڈیمز کا آغاز کیا. صنعتوں اور زراعت کو فروغ دیا. پاک فوج مضبوط ہوئی. پاکستان پہلی بار گندم کی پیداور میں خودکفیل ہوا. بنکنگ سیکٹر پروان چڑھا اور چین سے تعلقات بہتر بنائے گئے. لیکن ایوب خان کی سب سے بڑی ناکامی یہ تھی کہ ان کے دور میں مشرقی اور مغربی پاکستان میں دوریاں اتنی بڑھ گئی تھیں. کہ محض تین سال بعد ملک دو ٹکڑے ہوگیا. ایوب خان نے امریکی امداد سے پاکستان میں انڈسٹری کو ترقی تو دی لیکن اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے جمہوری سسٹم ڈیولیپ نہیں ہونے دیا. جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ امداد کی سہارے ہونے والی ترقی امریکی امداد کے خاتمے پر ختم ہو گئی. منگلا تو مکمل ہو گیا لیکن تربیلا ڈیم کے لیے پیسے ختم ہو گئے۔ تربیلا ڈیم بھٹو دور میں مکمل ہوا

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *