WhatsApp Image 2024-02-06 at 18.51.19 (2)

آم کی بہترین فوائد

آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے آم گرم ممالک کا مشہور پھل ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے ایشیائی پھلوں کا بادشاہ کہتےہیں۔ غذا کے ساتھ ساتھ اسے گھریلو روا کا درجہ بھی حاصل ہے، یہ بھر پور گود سے والا رس بھرا پھل ہے، یہ عام طور پر سبز زود اور قدرے سرخ رنگوں میں ملتا ہے رنگوں کے علاوہ اس کی جسامت میں بھی خاصا فرق ہوتا ہے اس اور گودے کی طرح اس کی گٹھلیوں کا سائنسز بھی مختلف ہوتا ہے، اس کا شمار تناؤ پیڑوں میں ہوتا ہے۔

برصغیر پاک و ہند میں آم چار ہزار سال سے کاشت کیا جاتا ہے، ہندوؤں کی مشہور الہامی کتب ” ویدوی“ میں اسے کاشت یعنی بہشتی پھل کہا گیا ہے۔

بر صغیر پاک و ہند کے علاوہ اس وقت یہ پھل چین، بنگلہ دیش، فلپائن میکسیکو اور برازیل میں بکثرت ہوتا ہے پاک وہند میں اگر چہ اس کی لگ بھگ پانچ سو اقسام پائی جاتی ہے لیکن ان میں صرف 35 اقسام ہی کاشت کی جاتی ہیں۔

غذائی فوائد

آم کے پھل کو کچے سے لیکر پکنے تک قریباً ہر حالت میں استعمال کیا جاتا ہے، سبز یا کچے آم میں نشاستے کی بھر مقدار پائی جاتی ہے جو آہستہ آہستہ گلوکوز سکروز اور ماشوز میں تبدیل ہوتی رہتی ہے اور پختہ ہونے تک یہ تمام اجزاء مکمل ہو جاتے ہیں اور نشاستہ یکسر غائب ہو جاتا تا ۔ ہے، کچے آم میں پیکٹن وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے لیکن گٹھلی مکمل ہونے پر یکسر ختم ہو جاتی ہے، خام یعنی کچے آم میں آگز بلک سرک میلک اور سکسا ٹنک ایسڈ ز خاصی مقدار میں موجود ہوتی ہے اسی لئے کچا آم کھٹا ہوتا ہے ایک سو گرام پختہ آم میں 74 غذائی مرارے ہوتے ہیں۔

وٹامنز

کچے آم میں وٹامن سی وافر مقدار میں پائی جاتی ہے نیم پختہ یا پختہ آم اس میں کی مقدار خاصی کم ہو جاتی ہے، وٹامن سی کے علاوہ اس میں وٹامن بی اور نیاسمین بھی خاصی مقدار میں موجود ہوتی ہیں ، آم کی ہر قسم میں ان کی مقدار کمو بیش ہوتی ہے۔

پختہ آم غذائیت بخش اور مقوی ہوتا ہے اس میں شکر کی مقدار دیگر اجزاء کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے شکر کے علاوہ اس میں ٹارٹرک ایسڈ اور میلک ایسڈ بھی پائی جاتی ہے یہ ترشے جسم کی نشوونما کے لیے بڑے مفید سمجھے جاتے ہیں، ان کی وجہ سے بدن میں نمکیات کا توازن برقرار رہتا ہے۔

طبی فوائد

دیگر پھلوں کی طرح آم بھی اپنے طبی فوائد کے اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتا ہے خام اور پختہ یعنی دونوں حالتوں میں بے حد مفید ہے کچے آم میں چونکہ ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس لئے معدے اور انتڑیوں کے بہت سے امراض میں بہت مفید ثابت ہوتا ہے، کچے آم کا اچار بھی بنایا جاتا ہے اور مربہ بھی کچے آم کا چھلکا بھی بڑے کام کی شے ہے معدے کی لعاب دار جھلیوں کے لیے خاصا مفید سمجھا جاتا ہے آم کا اچار عام طور پر سرسوں یا رائی کے تیل سرکہ اور نمک سے تیار کیا جاتا ہے طبی اعتبار سے اس کا استعمال بہت کم مقدار میں کیا جانا چاہیے اس کی زیادتی معدے کے امراض کا باعث بنتی ہے جوڑوں کے درد گھٹیا گلے کی بیماریوں اور تیزابیت ایسی بیماریوں میں اس کا استعمال نقصان دہ ثابت ہوتا ہے

پختہ آم پیشاب اور قبض کشا قوت بخش اور وزن بڑھاتا ہے۔ دل کے پٹھوں کو طاقت دیتا ہے چہرے کی رنگت کو سنوارتا اور بھوک میں اضافہ کرتا ہے ہے ۔ے قدیم اطبا اور ویدوں کے بقول آم خون پیدا کرتا ہے گوشت میں اضافہ کرتا ۔ ہڈیوں کے گودے اور مادہ منویہ کو بڑھاتا ہے اسے جگر کے امراض میں بھی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے جن لوگوں کا وزن کم ہو ان کے لیے خصوصیت کے ساتھ مفید ہے جگر کے لیے مفید ثابت ہونے کے باوجود اس کی زیادتی جگر کے قدرتی فعل میں خلل ڈالتی ہے۔

کچے آم کے خواص

کچے آم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کو موسم گرمائی آگ برساتی ہوا سے محفوظ رکھتا ہے، گرمیوں کی تیز دھوپ میں اگر کسی کو لو لگ جائے تو کچے آم کو بھوبل یعنی گرم گرم راکھ میں دبا کر پکا لیا جائے اس کے بعد اسکے رس میں تھوڑی چینی ملا کر مریض کو پلا دیں اس سے لو کے اثرات ختم ہو جاتے ہیں، کچھے آم کو تھوڑے سے نمک کے ساتھ کھانے سے پیاس کو تسکین ملتی ہے علاوہ ازیں پینے کے ذریعے خارج ہونے والے فولاد اور نمک کی کمی پوری ہو جاتی ہے۔

صفراوی امراض

کچا آم پتے اور جگر کی صفراوی بیماریوں کے لیے بہت موثر ثابت ہوتا ہے کچے آم میں موجود ترشے ایسڈز صفراء کے اخراج کو بڑھا دیتے ہیں اور انتڑیوں سے زہریلے مواد کو خارج کر دیتے ہیں کچے آم کا خالی مرچوں اور شہد کے ساتھ روزانہ کھانے سے صفراوی امراض ختم ہو جاتے ہیں، خاص طور پر یرقان کے لیے اسے بے حد موثر سمجھا جاتا ہے، یہ جگہ کو طاقت بخشتا اور صحت مند رکھتا ہے۔

خون کی خرابیاں

کچا سبز آم خون کی اکثر خرابیوں میں مفید ثابت ہوتا اس کی وجہ یہ ہے کہ کچے آم میں وٹامن سی وافر مقدار میں پائی جاتی ہے یہ خون کی رگوں کو لچکدار بناتی ہے جس کی وجہ سے دوران خون میں کوئی رکاوٹ نہیں پڑتی، علاوہ ازیں یہ خون کے سرخ ذرات میں بھی اضافہ کرتا ہے، غذا میں شامل فولاد کو خون میں جذب کرتا ہے جسکی وجہ سے خون بہنے سے بچا رہتا ہے کچے آم میں یہ خوبی بھی ہے کہ ٹی بی، خون کی کمی پیچش اور ہیضہ کے خلاف جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے علاوہ ازیں مسوڑھوں سے خون بہنے کی بیماری کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے پختہ وشیریں آم کےفوائد

امراض چشم

پختہ اور شیریں آم بینائی کی کمزوری کو دور کرتے ہیں خاص طور پر اندھراتا اور مرض جس میں رات کو کم دکھائی دیتا ہے کے لیے مفید ہیں، یہ مرض عام طور پر وٹامن اے کی کمی سے پیدا ہوتا ہے یہ بیماری زیادہ تر ان بچوں میں ہوتی ہے جنہیں غربت کی وجہ سے موزوں اور مناسب غذا میسر نہیں آتی، میٹھے آموں کا بکثرت استعمال اس بیماری سے چھٹکارا دلا دیتا ہے علاوہ ازیں یہ پھیل آنکھوں کو ایسی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے جو مریض کو مستقل طور پر اندھا بنا سکتی ہے۔ پختہ میٹھے آم آنکھوں کی جلن خارش اور بھینگے پن میں بھی بے حد مفید سمجھے جاتےہیں۔

Tags: No tags

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *