FB_IMG_1698465174729

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور صحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اعلان توحید اور اہل ایمان کی آزمائشیں

اعلان توحید کی حکم

نبوت کی تین سال بعد اللہ تعالی کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوحکم دیا گیا کہ اب اسلام کی دعوت اعلانیہ طور پر کی جائے ۔ اس مقصد کے لیے پہلے مرحلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے حکم دیا گیا: ﴿ وَأَنذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبين )یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ( شرک کے انجام سے ) ڈرائے (اور انہیں تو حید کا پیغام سنائیے )

اقارب میں سب سے پہلے گھر کے لوگ تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو دعوت دی، ایک ایک کو مخاطب کیا اور سمجھایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے میری پھوپھی صفیہ ، اے عبد المطلب کی اولاد اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کی فر کرد؛ کیوں کہ کل اللہ کے ہاں میں تمہارے معاملے میں کچھ کام نہیں آسکوں گا

یہ کام خاص لوگوں اور دوستوں کو دعوت اسلام دینے سے کہیں زیادہ مشکل تھا، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت گھبراتے ہوئے اپنے خاندان بنو ہاشم کے تمام افراد کو مد عو کیا۔ ان میں آپ کے چچا ابوطالب، عباس، حمزہ اور ابولہب سمیت چالیس، پینتالیس آدمی جمع ہو گئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑے سے گوشت ، دودھ اور روٹی سے اُن کی ضیافت کی، معجزانہ طور پر سب کے لئےکھا پی ہوکر سیر ہو گئے ، تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا

آدمی اپنے گھر والوں سے غلط بیانی نہیں کرتا۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں سب کے لیے اللہ کا رسول ہوں اور آپ لوگوں کے لیے بطور خاص۔ اے اولاد عبد المطلب ابلا شبہ کوئی شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بات لے کر نہیں آیا جو میں آپ کے پاس لایا ہوں۔ میں دنیا و آخرت کی کامیابی کا پیغام لایا ہوں۔ اللہ کی قسم جس طرح آپ سوتے ہیں، اسی طرح ایک دن ضرور مریں گے اور جس طرح آپ بیدار ہوتے ہیں، اسی طرح ایک دن حساب وکتاب کے لیے زندہ کیسے جائیں گے اور وہاں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پائیں گے۔ بے شک جنت کا ٹھکانہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے اور دوزخ میں رہنا بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوگا۔

ابو طالب کی حوصلہ افزائی اور ابولہب کی تکبری

یہ سن کر ابو طالب نے حوصلہ افزائی کے کلمات کہے مگر ضدی اور متکبر ابولہب نے بہت ناراضگی ظاہر کی اور اس پیغام کی بڑی شدت سے مخالفت کی۔

اللہ تعالیٰ کے طرف سےاعلانیہ تبلیغ کی حکم 4 ہجری

کچھ دنوں بعد اللہ تعالی کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلم کھلا تبلیغ کا حکم دیا گیا وحی نازل ہوئی (فاصدع بما تومر وأعرض عن المشركين ) ترجمہ آپ کو جس بات کا حکم کیا گیا ہے، وہ صاف صاف سنادیں اور مشرکین کی ذرا بھی پرواہ نہ کریں ۔ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الکو صفا کی چوٹی پر چڑھے اور آواز لگائی: “با صبا حاه !” عرب میں یہ نعرہ اُس وقت لگایا جاتا تھا جب دشمن کے حملے کا خطرہ سر پر آ جاتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے قریش کا پورا قبیلہ وہاں جمع ہو گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد المطلب !، اے بنی فہر ا، اے بنی کعب ! اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک فوج تم پر حملہ کرنے کے لیے تیار کھڑی ہے تو کیا تم میری بات پر یقین کر لو گے ؟

لوگوں کو حضور ا صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر اتنایقین تھا کہ سب نے بے ساختہ کہا ہاں ہم یقین کریں گے۔” تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں ایک سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمہارے بالکل سامنے ہے۔“ یہ سن کر قریش سناٹے میں آگئے

ابو لہب کی گستاخی

ابو لہب نے کہا

لباً لكَ سَائِرَ الْيَوْمِ الِهَذَا جَمَعَنَا؟

تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو نے اس لیے ہمیں بلایا تھا(نعوذباللہ)

اس کے بعد سب غضب ناک نگاہوں کے ساتھ واپسں ہو گئے

ابولہب کی گستاخی کا جواب۔ سورۃ لہب کا نزول

ابولہب کی اس گستاخی کے جواب میں سور ۂ لہب نازل ہوئی اور قر آن مجید نے ابو لہب کے جملے میں جو اس نے کہا تھا کا جواب نہایت فصیح وبلیع انداز میں کہاں دیا

ابولہب کے باتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہو جائے ۔

اس معجزانہ اسلوب پر مبنی جواب نے ابو لہب کو پورے مکہ میں رسوا کر دیا۔ اس نے غصے میں آکر اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں رقیہ اور ام کلثوم کو طلاق دے دیں۔ یہ دونوں صاحبزادیاں ان سے بیاہی ہوئی تھیں مگر ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ ابو لہب کے لڑکوں نے باپ کے حکم پر حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں کو طلاق دے دی

ابو لہب اور اس کی بیوی کی ایذاء رسائی

ابو لہب اور اس کی بیوی ام جثیل بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرطرح کی تکلیفیں دینے پر تل گئے۔ ابولہب کا گھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے قریب تھا، اس لیے آپ ہر وقت اس کی شرانگیزی کا نشانہ بنتے رہتے تھے۔ ام جمیل رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر کانٹے بکھیر دیا کرتی تھی۔ابولہب اپنے گھر کا سارا کچرا ڈال دیتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دوسری جانب آپ کا دوسرا دشمن عقبہ ابن ابی معیط رہتا تھا۔ اس کا بھی معمول تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینے کے لیے اپنے گھر کی غلا ظت آپ کے دروازے پر پھینک جاتا

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: میں دو بدترین پڑوسیوں کے درمیان رہتا تھا۔ ابولہب اور عقبہ بن ابی معیط ان ابولہب ہر وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تاک میں رہتا کہ آپ تبلیغ کے لیے کہاں کا رخ کر رہے ہیں۔ آپ کہیں قریب جاتے یادور ، یہ پیچھے پیچھے پہنچ جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آواز یں گستا۔ 0

ابو طالب پر قریش کا دباؤ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب

قریش کے دوسرے سردار بھی اب کھلم کھلا مخالفت پر اتر آئے تھے اور اس دعوت تو حید کو روکنے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں کرنے لگے تھے۔ یہ لوگ ایک وفد بنا کر ابو طالب کے پاس آئے اور بولے ابو طالب ! آپ اپنے بھتیجےکومنع کریں۔ ہم اپنے آباؤ اجداد کی مذمت اور اپنے معبودوں کی عیب جوئی مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ آپ ان کوروکیں ورنہ ہم آپ سے اور ان سے نمٹ لیں گے۔

ابو طالب گھبرا گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو علیحد گی میں بلوا کر قریش کے مطالبے کا ذ کر کیا اور کہا:میری اور اپنی جان کا خیال کرو ، مجھ پر اتنا بوجھ نہ ڈالو کہ میں اٹھا نہ سکوں ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ چچا پر سخت دباؤ ہے اور وہ آپ کی مزید حمایت نہیں کر سکیں گے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس عظیم فریضے کو کیسے چھوڑ سکتے تھے، جس پر اس سسکتی ہوئی دنیا کی نجات کا دارو مدار تھا اور جس سے آپ کو اپنی جان سے بڑھ کر جذباتی لگاؤ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” چچا جان ! اللہ کی قسم ! اگر وہ میرے دائیں ہاتھ پر جلتا سورج اور بائیں پر چاند لاکر رکھ دیں تا کہ میں اس کام کو چھوڑ دوں ، تب بھی میں رکنے والا نہیں، یہاں تک کہ اللہ اس دین کو غالب کر دے یا میں اس جدو جہد میں جان دے دوں۔ اتنا کہ کرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہ نکلے اور آپ روتے ہوئے باہر چل دیے۔ ابو طالب نے یہ دیکھا تو وہ بھی تڑپ اٹھے ، آپ کو واپس بلایا اور بولے: بھتیجے جو تمہارا دل چاہے کہو، جیسے چاہو تبلیغ کرو۔ میں تمہیں بھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔

ابو جہل کی کارستانیاں

قریش کے ابھرتے ہوئے سرداروں میں عمر و بن ہشام جو ابو جہل کے لقب سے مشہور ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا دشمن تھا۔ یہ انتہائی فصیح و بلیغ ، چالاک اور مکار تھا۔ اکثر دوسروں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین پر اکساتا اور خود دور سے تما شا د یکھتا۔ بسا اوقات آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرعام بے عزتی کرتا ۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پاس نماز پڑھا رہے تھے۔ جب سجدے میں گئے تو یہ بد بخت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر ٹھو کر مارنے کی غرض سے تیزی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا۔ اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر اپنے نبی کی حفاظت فرمائی۔ اسے ایک بھیا تک اونٹ منہ کھولے نظر آیا اور بھاگ کا۔

گر اس کے باوجود اپنی حرکتوں سے بازنہ آیا۔ اب بھی قریش کے کسی شخص کو اسلام لاتا یا اسلام کی طرف مائل ہوتا یا تو دیکھتا تو اگر وہ رئیس یا سردار ہوتا تویہ بڑے فنکارانہ انداز میں اسکو یوں تنبیہ کرتا ” تم اپنے باپ کا دین چھوڑ رہے ہو حالانکہ تمہارا باپ تم سے کہیں بہتر تھا اس لیے آئندہ سے ہم نہ تو تمہارے اخلاق کا بھروسہ کریں گے نہ تمہاری رائے کا اعتبار کریں گے اور نہ ہی تمہاری کوئی قدر ومنزلت ہوگی

اگر کوئی تاجر ہوتا تو اسے یوں دھمکاتا: “اگر تم مسلمان ہوئے تو ہم تمہاری تجارت کا نقصان کروا ئیں گے اور تمہار امال ضائع کرا کے چھوڑیں گے ۔ اور اگرکوئی غریب اسلام لاتا تو پھر ابو جہل سیدھامکوں ، لاتوں اور ڈنڈے سے کام لیتا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اولاد نرینہ کی وفات اور مشرکین کے طعنے :

حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرایک اور بہت بڑی آزمائش آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے صاحبزادے قاسم جو آپ کی بعثت سے پہلے پیدا ہوئے تھے اور اب اتنے بڑے ہو چکے تھے کہ گھوڑے پر سوار ہو جاتے تھے، اللہ کو پیارے ہو گئے۔ کچھ دنوں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صاحبزادے عبداللہ بھی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاو کوئی نہ رہی۔ اولادکی جدائی کا غم ہی کچھ کم جگر سوز نہ تھا مگر مشرکین نے اسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مزید دل آزاری کا ذریعہ بنا لیا اب وہ کہتے پھرتے تھے کہ محمد ” ابتر ہو گئے ہیں، یعنی ان کی اولا ویز یہ ختم ہوچکی ہے، آئندہ ان کی نسل ہوگی نہ کوئی نام لیوا۔ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوتسلی کے لیے سورۃ الکوثر نازل فرمائی اور یہ اعلان فرمایا: وان شانئكَ هُوَ الابتر” یقیناً آپ کے دشمن ہی بے نام ونشان ہو جا ئیں گے ۔

اولاد نرینہ کی وفات میں حکمت الہیہ

اللہ تعالیٰ کے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد نرینہ کو جلد اپنے پاس بلا لینے میں سب سے بڑی حکمت یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا طے ہو چکا تھا۔ اب اگر آپ کے لڑکے جوان ہو کر نبی نہ بنتے تو کسی کو یہ شک ہو سکتا تھا کہ شاید گزشتہ انبیائے کرام زیادہ قابل اور اپنی اولاد کے زیادہ اچھے مر بی تھے کہ ان کی اولاد بھی پیغمبر ہوئی۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے قابل ہوتے تو ان کی اولاد بھی نبی ہوتی۔ پس اللہ تعالی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لڑکوں کی نعمت عطا ضرور کی تا کہ آپ اس انعام سے محروم نہ رہیں گمان کوجلد واپس بلا لیتا تاکہ کسی قسم کی شک پیدا نہ ہو سکے۔

قرآن مجید کی کتابت

قرآن مجید کی کتابت اور حفاظت اور اس کی تدریس کا کام بھی اس ابتدائی دور میں شروع ہو گیا تھا۔ نئی نازل ہونے والی آیات لکھ لی جاتیں۔ صحابہ انہیں سیکھ لیتے اور دوسروں کو سکھانا اور یاد کرا نا شروع کر دیتے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اسلام لانے والے اپنے ساتھیوں کا بہت خیال رکھتے۔ ان کے خانگی حالات اور مسائل میں بھی دلچسپی لیتے ۔ ان میں سے جو نادار اور مسکین ہوتے انہیں کسی بہتر آمدنی والے مسلمان کا ساتھی بنا دیتے تاکہ ان کی کفالت ہوتی رہے اور وہ رؤسائے قریش کے محتاج نہ رہیں، جیسا کہ تنگ دست صحابی حضرت خباب رضی اللہ عنہ اسی کو حضرسعید بن زید رضی اللہ عنہ کا ساتھی بنایا۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ انہیں قرآن بھی پڑھایا کرتے تھے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ کی اس منشا کے مطابق مال دار مسلمان خود بھی غریب اور مصیبت زدہ مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کو سعادت سمجھتے ، چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کو امیہ بن خلف کی غلامی سے آزاد کرایا ، اس طرح زنیرہ، نہدیہ اور ام عسبیس رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی مشرکین کی باندیاں تھیں جو کلمہ پڑھنے کی پاداش میں سخت عذابوں کا سامنا کر رہی تھیں۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ انھوں نے انہیں بھی خرید کر آزاد کرا دیا۔

ایسا لگتا تھا ابو بکر صدیق بنی نوحہ کا مال صرف اسلام کے لیے وقف ہے۔

Alkhroof.com

اسلامی کتابیں حاصل کرنے کے لیے اس نمبر پر میسج کریں شکریہ

00923170487219

Tags: No tags

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *