FB_IMG_1700459514989

صحت کے لیے سبزیوں کی اہمیت

برصغیر میں عام طور پر سبز تر کاری غذا کے طور پر کھائی جاتی ہے۔ سبزیاں قدرتی نمکیات، معدنیات اور وٹامنز کا خزانہ ہیں۔ سبز تر کاریوں میں چونکہ نمکیات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس لئے ان کا استعمال جگر، گردے، مثانے کی پتھری اور پرانے قبض میں بہت مفید ہے۔ سبزیاں عام طور پر زود ہضم اور قبض کشا ہوتی ہیں۔ انتڑیوں کو صاف کر کے انہیں طاقت بخشتی ہیں اسلئے سبزیوں کا استعمال صحت اور زندگی کے لیے نہایت مفید اور بہت ضروری ہے

آلو، شلغم، گاجر، چقندر اور شکرندی وغیرہ میں نشاستہ اور شکر وغیرہ کافی مقدار میں ہوتی ہے۔ عام سبزیوں میں نائٹروجنی اجزاء کی مقدار کم اور وٹامنز اور نمکیات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، سبزیوں کے نمکیات سے خون معتدل اور صاف رہتا ہے،خون اور جلد کے امراض لاحق نہیں ہوتے، قبض کی شکایت بھی نہیں ہوتی

گاجر، مولی، ٹماٹر ، گوبھی، شلغم، پالک، میتھی، ٹینڈے، کدو اور مٹر وغیرہ مفید اورصحت بخش سبزیاں ہیں۔ سبزیوں کو پکانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انہیں پانی کے بغیرپکایا جائے اس طرح پکی ہوئی سبزی زیادہ نفع بخش ہوتی ہے۔

معمولی گھی میں پکی ہوئی سبزیاں زود ہضم و طاقت بخش اور گھی میں تلی ہوئی اور بھنی ہوئی سبزیاں دیر ہضم اور تیل ہوتی ہیں اور ان کے وٹامنز اور غذائیت ضائع ۔ہو جاتی ہے۔

سبزیوں کو ہمیشہ نرم آنچ پر پکانا چاہیے، کچی سبزی کھانا بہت مفید ہے۔ گاجر، مولی شلغم، ٹماٹر، کھیرا، سلاد اور پیاز وغیرہ کچے کھائے جاسکتے ہیں۔

ساگ کی غذائی اہمیت

اکثر لوگ ساگ کو ادنی درجے کی غذا سمجھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی بنیاد انہیں ساگوں اور سبزیوں پر قائم ہے، انہیں کے ذریعے سے قدرت زندگی کی تعمیر کے لیے گارا اور مسالہ تیار کرتی ہے اور ان کے بغیر زندگی زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکتی۔ دودھ جسے ہم ایک اعلیٰ درجے کی غذا سمجھتے ہیں انہیں ساگوں اور سبزیوں کا دوسرا روپ ہے۔

ساگ میں کیلشیم (چونا)، سوڈیم (نمک)، کلورین، فاسفورس، فولاد، پروٹین جسم کو بڑھانے والے اجزائ ) اور وٹامنز اے بی سی ای کافی مقدار میں موجود ہوتے ہیں ۔ ساگ کے سلسلے میں یہ بات ہر شخص کے یاد رکھنے کی ہے کہ ساگ اور دودھ بڑی حد تک ایک دوسرے کا بدل ہو سکتے ہیں اور جہاں دودھ کی کمی ہووہاں ساگ کے استعمال سے اس کی تلافی ہو سکتی ہے۔

بچوں کی نشوونما میں ساگ سے بہت مدد ملتی ہے اور اگر ان میں بچپن ہی سے ساگ اور سبزی کی رغبت پیدا کی جائے تو یہ عادت زندگی بھر ان کی صحت کیحفاظت کرتی ہے۔بچے جب دودھ سے ٹھوس غذا کی طرف آنے لگتے ہیں اسی وقت سے انہیںساگ نرم اور اچھی طرح سے پکا کر کھلایا جا سکتا ہے۔

Tags: No tags

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *