FB_IMG_1698465275103

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم وستم

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دین میں تکلیفیں

ظلم و ستم کی ان تمام تر کاروائیوں کے باوجود اہل ایمان اپنے دین پر ثابت قدم رہے تو قریش کے سرداروں کا غصہ مزید بڑھ گیا۔ اب انہوں نے نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کو زبانی تکالیف کے ساتھ جسمانی طور پر اذیتیں دینے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا، انہوں نے شہر کے اوباشوں کے ذمے یہ کام لگا دیا کہ جہاں کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھیں ، آپ کو تنگ کریں، آپ پر آوازیں کہیں، آپ کو شاعر، جادو گر اور مجنون کہیں اور تکلیفیں پہنچا ئیں، چنانچہ یہ سلسلہ پورے زور وشور سے شروع ہوگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان حرکتوں سے دل گیر ہوئے ، در دول حد سے بڑھ جاتا تو تسلی کے لیے وحی نازل ہو جاتی۔

غلاموں کہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین

ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو دن بھر ایسی ہی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اور تو اور مکہ کے غلاموں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلم کھلا تو ہین کی اور آپ کو جھٹلایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہایت رنجیدہ ہوکر گھر تشریف لائے اور چادر اوڑھ کر لیٹ گئے تب وحی نازل ہوئی اور یا ایھالمُدثر کہ کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا حوصلہ بڑھایا گیا۔ اور اکثر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اہل مکہ کی طعن و تشنیع کے جواب میں خاموش ہی ر ہتے مگر کبھی کبھی صبر کا پیمانہ جھلک جاتا تو آپ انہیں بتا دیتے کہ وہ اپنے لیے خود ہلاکت کا سامان تیار کر رہے ہیں۔

طواف کے دوران کفار کی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر تشدد

ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا طواف کر رہے تھے، اس وقت مکہ کے سردار کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے۔ آپ طواف کرتے کرتے جب بھی ان کے پاس سے گزرتے وہ آپ کا مذاق اڑاتے ۔ آخر تیسرے چکر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس رک گئے اور فرمایا: ” قریش کے لوگ اللہ کی قسم تم باز نہ آؤ گے جب تک کہ تم پر اللہ کا عذاب نازل نہ ہو۔سن لو میں تمہارے لیے ہلاکت کی خبر لے کر آیا ہوں۔یہ سن کر سب کے رونگھٹے کھڑے ہو گئے اور انہیں سانپ سونگھ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمارہے تھے ” الہا اپنے دین کو یقین غالب کرےگا

مگر اگلے دن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم طواف کرنے آئے تو ان لوگوں نے آپ کو گھیر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ٹوٹ پڑے۔ عقبہ بن ابی معیط بد بخت نے آپ کی چادر آپ کے گلے میں ڈال کر اس طرح بل دے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دم گھٹنے لگا اور آپ گھٹنوں کے بل بیٹھے گئے۔ خوش قسمتی سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے عقبہ بن ابی معیط کو دھکا دے کر ہٹایا اور فرمایا اتقتلونَ رَجُلًا أَن يَقُولُ رَبِّي الله کیا تم ایک شخص کو صرف اتنی سی بات پر قتل کر رہے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ؟)یہ سن کر مشرکین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تینوں پر پل پڑے، اتنا مارا کہ ان کا سر پھٹ گیا

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اولاد نرینہ کی وفات اور مشرکین کے طعنے

حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرایک اور بہت بڑی آزمائش آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے صاحبزادے قاسم جو آپ کی بعثت سے پہلے پیدا ہوئے تھے اور اب اتنے بڑے ہو چکے تھے کہ گھوڑے پر سوار ہو جاتے تھے، اللہ کو پیارے ہو گئے۔ کچھ دنوں بعد آپ کے دوسرے صاحبزادے عبداللہ بھی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاو کوئی نہ رہی۔ اولادکی جدائی کا غم ہی کچھ کم جگر سوز نہ تھا کہ مشرکین نے اسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مزید دل آزاری کا ذریعہ بنا لیا اب وہ کہتے پھرتے تھے کہ محمد ” ابتر ہو گئے ہیں، یعنی ان کی اولا نرینہ ختم ہوچکی ہے، آئندہ ان کی نسل ہوگی نہ کوئی نام ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم علی یلم کوتسلی کے لیے سورۃ الکوثر نازل فرمائی اور یہ اعلان فرمایا: وان شائِكَ هُوَ الابتر” یقیناً آپ کے دشمن ہی بے نام ونشان ہو جا ئیں گے ۔

Alkroof.com

Tags: No tags

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *